Sunan ibn Majah Hadith 3335 (سنن ابن ماجہ)
[3335]إسنادہ صحیح
صحیح بخاری
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ،وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ،قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي،قَالَ: سَأَلْتُ سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ: ہَلْ رَأَيْتَ النَّقِيَّ؟ قَالَ: ((مَا رَأَيْتُ النَّقِيَّ،حَتَّی قُبِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ)) فَقُلْتُ: فَہَلْ كَانَ لَہُمْ مَنَاخِلُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: ((مَا رَأَيْتُ مُنْخُلًا،حَتَّی قُبِضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ))،قُلْتُ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ: ((نَعَمْ كُنَّا نَنْفُخُہُ،فَيَطِيرُ مِنْہُ مَا طَارَ،وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاہُ))
حضرت ابو حازم (سلمہ بن دینار)رحمہ اللہ سے روایت ہے ‘انھوں نے کہا: میں نے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہما سے سوال کیا:کیا آپ نے میدے کی روٹی دیکھی ہے؟انھوں نے فرمایا:میں نے رسول اللہﷺ کی وفات تک میدے کی روٹی نہیں دیکھی تھی۔میں نے کہا:کیا رسول اللہﷺ کے زمانے میں لوگوں کے پاس چھلنیا ں ہوتی تھیں؟ انھوں نے فرمایا:میں نے رسول اللہﷺ کی وفات تک چھلنی نہیں دیکھی۔میں نے کہا:پھر آپ لوگ جو(جو کا آٹا)بغیر چھانے کیسے کھا لیتے تھے؟انھوں نے کہا:ہاں!ہم لوگ اس میں پھونک مار لیا کرتے تھے۔جو (بھوسی یاچھان)اڑ ہوتا ‘اڑ جاتا۔جو رہ جاتا ‘ہم اسے بھگو لیتے (اور آٹا گوند کر روٹی پکا لیتے۔)