Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3340 (سنن ابن ماجہ)

[3340] إسنادہ ضعیف

قال ابن الجوزي فی الموضوعات (21/3): ’’ھذا حدیث باطل لا أصل لہ‘‘

و عثمان: مجہول (التحریر: 4528)

انوار الصحیفہ ص 496

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ السُّلَمِيُّ أَبُو الْحَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ،عَنْ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَی،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،قَالَ: أَوَّلُ مَا سَمِعْنَا بِالْفَالُوذَجِ،أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْہِ السَّلَامُ،أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ تُفْتَحُ عَلَيْہِمُ الْأَرْضُ،فَيُفَاضُ عَلَيْہِمْ مِنَ الدُّنْيَا،حَتَّی إِنَّہُمْ لَيَأْكُلُونَ الْفَالُوذَجَ،فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((وَمَا الْفَالُوذَجُ))؟ قَالَ: يَخْلِطُونَ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ جَمِيعًا،فَشَہِقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ شَہْقَةً

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ انھو ں نے کہا: ہو نے فالوذج کا نام سب سے پہلے اس وقت سنا جب جبرئیل علیہ السلام نے نبیﷺ کے پاس آ کر فرمایا:آپ کی امت کو زمین میں فتوحات حاصل ہوں گی‘اور انھیں دنیا میں کثرت حاصل ہو گی حتی کہ وہ فالوذج کھائیں گے۔نبیﷺنے فرمایا:’’فالوذج کیا ہوتا ہے؟‘‘ جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا:وہ گھی اور شہد دونوں کو ملا دیں گے۔یہ سن کر نبیﷺ آہستہ آواز سے رو دیے۔