Sunan ibn Majah Hadith 337 (سنن ابن ماجہ)

[337] إسنادہ ضعیف

سنن أبي داود (35) وانظر الحدیث الآتي (3498)

انوار الصحیفہ ص 389

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيِّ عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ وَمَنْ لَاكَ فَلْيَبْتَلِعْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ أَتَی الْخَلَاءَ فَلْيَسْتَتِرْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَمْدُدْہُ عَلَيْہِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ ابْنِ آدَمَ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی ﷺ نے فرمایا:’’جو ڈھیلے استعمال کرے وہ طاق تعداد میں استعمال کرے۔جس نے ایسا کیا تو اچھا کیا۔جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں۔جس نے(دانتوں میں) خلال استعمال کیا تو(کھانے کے جو ذرے وغیرہ نکلیں انہیں) پھینک دے اور جو کچھ زبان کے ذریعے سے(دانتوں کے درمیان سے) نکل آئے اسے نگل لے۔جس نے اس طرح کیا تو اچھا کیا،جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں۔جو شخص قضائے حاجت کے لئے جائے اسے چاہیے کہ پردہ کرے۔اگر ریت کی ڈھیری کے سوا کوئی اوٹ نہ ملے تو(مزید ریت جمع کر کے) اس میں اضافہ کر لے(تاکہ مناسب حد تک پردے کے قابل ہو جائے) کیونکہ شیطان انسان کی دبر سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے۔جس نے ایسا کیا تو اچھا کیا۔جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں۔‘‘