Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3437 (سنن ابن ماجہ)

[3437] إسنادہ ضعیف

ترمذي (2065)

قال معاذ علي زئي: ولہ شاھد عند ابن حبان (الاحسان: 13/ 465 ح 6100) وسندہ حسن،شیخ ابن حبان: یحیي بن محمد بن عمرو الفقیہ: وثقہ ابن حبان بتصحیح حدیثہ،وقال الذھبي فیہ: وکان من کبار الشھود …… وکان عاقلًا،کثیر التلاوۃ،لہ جلالۃ فی النفوس (تاریخ الاسلام: 23/ 226) ونقل الذھبي قول ابن زولاق یعني الحسن بن إبراھیم بن زولاق (متوفی 387 ہـ) قال: کان من کبار شھود مصر وقرائھم وعبادھم.

انوار الصحیفہ ص 500

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،عَنِ الزُّہْرِيِّ،عَنِ ابْنِ أَبِي خِزَامَةَ،عَنْ أَبِي خِزَامَةَ،قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،أَرَأَيْتَ أَدْوِيَةً نَتَدَاوَی بِہَا،وَرُقًی نَسْتَرْقِي بِہَا،وَتُقًی نَتَّقِيہَا،ہَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللہِ شَيْئًا؟ قَالَ: ((ہِيَ مِنْ قَدَرِ اللہِ))

حضرت ابو خزامہؓ سے روایت ہے،انہوں نےفرمایا: رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا: ہم دواؤں کے ذریعے سے علاج کرتے ہیں،اور دعاؤں کے ساتھ دم کرتے ہیں،اور دفاعی اسیاء کے ذریعے سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں،کیا یہ چیزیں اللہ کی تقدیر میں سے کسی چیز کو روک سکتی ہیں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’یہ بھی اللہ کی تقدیر میں شامل ہیں۔‘‘