Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3449 (سنن ابن ماجہ)

[3449]صحیح

صحیح بخاری

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ،قَالَ: خَرَجْنَا،وَمَعَنَا غَالِبُ بْنُ أَبْجَرَ،فَمَرِضَ فِي الطَّرِيقِ،فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ،وَہُوَ مَرِيضٌ،فَعَادَہُ ابْنُ أَبِي عَتِيقٍ،وَقَالَ: لَنَا عَلَيْكُمْ بِہَذِہِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ،فَخُذُوا مِنْہَا خَمْسًا،أَوْ سَبْعًا،فَاسْحَقُوہَا،ثُمَّ اقْطُرُوہَا فِي أَنْفِہِ،بِقَطَرَاتِ زَيْتٍ،فِي ہَذَا الْجَانِبِ وَفِي ہَذَا الْجَانِبِ،فَإِنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْہُمْ،أَنَّہَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ ہَذِہِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ،إِلَّا أَنْ يَكُونَ السَّامُ)) قُلْتُ: وَمَا السَّامُ؟ قَالَ: ((الْمَوْتُ))

حضرت خالد بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے،انہوں نےکہا:ہم لوگ سفر میں تھے۔ہمارے ساتھ حضرت غالب بن ابحر بھی تھے۔وہ راستے میں بیمار ہوگئے۔ہم لوگ مدینہ پہنچے تو وہ (اس وقت بھی) بیمار تھے۔حضرت ابن ابی عتیق رحمہ اللہ (عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر) ان کی بیمار پرسی کے لیے آئے تو ہم سے فرمایا: تم یہ کالا دانہ (کلونجی) استعمال کرو۔اس کے پانچ سات دانےلے کر پیس لو،پھر زیتون کے تیل میں ملا کر ان کی ناک میں چندقطرے اس طرف اور چند اس طرف (نتھنوں میں) ڈالو کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا،آپ فرمارہے تھے: ’’یہ کالا دانہ ہر بیماری کی شفا ہے،سوائے اس کے کہ سام (ہی مقدر) ہو،‘‘ میں نے کہا: سام کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ’’موت‘‘