Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3488 (سنن ابن ماجہ)

[3488] إسنادہ ضعیف

(ح 3489،ترمذي 2055،انظر ص 242،317)

عبد اللہ بن عصمۃ:مجہول وشیخہ سعید بن میمون: مجہول (تقریب: 3478،2402)

انوار الصحیفہ ص 503

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّی الْحِمْصِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عِصْمَةَ،عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَيْمُونٍ،عَنْ نَافِعٍ،قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ،يَا نَافِعُ تَبَيَّغَ بِيَ الدَّمُ فَأْتِنِي بِحَجَّامٍ،وَاجْعَلْہُ شَابًّا،وَلَا تَجْعَلْہُ شَيْخًا،وَلَا صَبِيًّا،قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ،سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،يَقُولُ: ((الْحِجَامَةُ عَلَی الرِّيقِ أَمْثَلُ،وَہِيَ تَزِيدُ فِي الْعَقْلِ،وَتَزِيدُ فِي الْحِفْظِ،وَتَزِيدُ الْحَافِظَ حِفْظًا،فَمَنْ كَانَ مُحْتَجِمًا،فَيَوْمَ الْخَمِيسِ،عَلَی اسْمِ اللہِ،وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ،وَيَوْمَ السَّبْتِ،وَيَوْمَ الْأَحَدِ،وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ،وَالثُّلَاثَاءِ،وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ،فَإِنَّہُ الْيَوْمُ الَّذِي أُصِيبَ فِيہِ أَيُّوبُ بِالْبَلَاءِ،وَمَا يَبْدُو جُذَامٌ،وَلَا بَرَصٌ إِلَّا فِي يَوْمِ الْأَرْبِعَاءِ،أَوْ لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ))

حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا: نافع! میرے خون میں جوش پیدا ہوگیا ہے،لہذا میرے پاس سینگی لگانے والا لاؤ۔جو ان آدمی لانا،بوڑھا یا بچہ نہ لانا۔حضرت ابن عمر نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا،آپ نے فرمایا: ’’نہار منہ سینگی لگوانازیادہ مفید ہے،اس سے عقل بڑھتی ہے،اور حافظہ تیز ہوتا ہے،اور اچھی یادداشت والے کی یادداشت بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔تو جس نے سینگی لگوانی ہو وہ اللہ کانام لے کر جمعرات کو لگوالے۔جمعہ،ہفتہ اور اتوار کو سینگی لگوا لیا کرو۔اور سوموار اورمنگل کو سینگی لگوا لیا کرو۔اور بدھ کو بھی سینگی لگوانے سےپرہیز کرو کیونکہ حضرت ایوب کو اسی دن آزمائش (اور بیماری) آئی تھی۔جذام اور برص صرف بدھ کے دن یا بدھ کی رات کو ظاہرہوتاہے۔‘‘