Sunan ibn Majah Hadith 3530 (سنن ابن ماجہ)
[3530] إسنادہ ضعیف
سنن أبي داود (3883)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ بِشْرٍ،عَنِ الْأَعْمَشِ،عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ،عَنْ يَحْيَی بْنِ الْجَزَّارِ،عَنِ ابْنِ أُخْتِ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللہِ،عَنْ زَيْنَبَ قَالَتْ: كَانَتْ عَجُوزٌ تَدْخُلُ عَلَيْنَا تَرْقِي مِنَ الْحُمْرَةِ،وَكَانَ لَنَا سَرِيرٌ طَوِيلُ الْقَوَائِمِ،وَكَانَ عَبْدُ اللہِ إِذَا دَخَلَ تَنَحْنَحَ وَصَوَّتَ،فَدَخَلَ يَوْمًا فَلَمَّا سَمِعَتْ صَوْتَہُ احْتَجَبَتْ مِنْہُ،فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَی جَانِبِي فَمَسَّنِي فَوَجَدَ مَسَّ خَيْطٍ فَقَالَ: مَا ہَذَا؟ فَقُلْتُ: رُقًی لِي فِيہِ مِنَ الْحُمْرَةِ فَجَذَبَہُ وَقَطَعَہُ فَرَمَی بِہِ وَقَالَ: لَقَدْ أَصْبَحَ آلُ عَبْدِ اللہِ أَغْنِيَاءَ عَنِ الشِّرْكِ،سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ الرُّقَی،وَالتَّمَائِمَ،وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ))،قُلْتُ: فَإِنِّي خَرَجْتُ يَوْمًا فَأَبْصَرَنِي فُلَانٌ،فَدَمَعَتْ عَيْنِي الَّتِي تَلِيہِ،فَإِذَا رَقَيْتُہَا سَكَنَتْ دَمْعَتُہَا،وَإِذَا تَرَكْتُہَا دَمَعَتْ،قَالَ: ذَاكِ الشَّيْطَانُ،إِذَا أَطَعْتِہِ تَرَكَكِ،وَإِذَا عَصَيْتِہِ طَعَنَ بِإِصْبَعِہِ فِي عَيْنِكِ،وَلَكِنْ لَوْ فَعَلْتِ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ كَانَ خَيْرًا لَكِ،وَأَجْدَرَ أَنْ تُشْفَيْنَ تَنْضَحِينَ فِي عَيْنِكِ الْمَاءَ وَتَقُولِينَ: ((أَذْہِبِ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ،اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي،لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ،شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا))
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ حضرت زینت (بنت معاویہ ثقفیہ)رضی اللہ عنہاسےروایت ہے،انہوں نے فرمایا:ہماؤے ہاں ایک بڑھیا آیاکرتی تھی۔وہ سرخ باد کادم کیاکرتی تھی۔اورہمارےپاس لمبے پایوں والی ایک چار پائی تھی۔حضرت عبداللہ جب گھر میں داخل ہوتے تو (پہلے)کھانستے اور آواز دیتے (پھر اندر داخل ہوتے۔) ایک دن وہ تشریف لائے۔ جب اس (بڑھیا)نے ان کی آوازسنی تو ان سے پردہ کرلیا۔وہ آکر میرےپاس بیٹھ گئے۔انہوں نےمجھےہاتھ لگایا تو انہیں دھاگا محسوس ہوا (جو میں نے گلے میں ڈالا ہوا تھا۔) انہوں نےکہا: یہ کیاہے؟ میں نےکہا،اس میں مجھےسرخ بام کا دم کرکے دیا گیا ہے۔انہوں نے اسے کھینچ لیا اور توڑ کر پھینک دیا۔اور فرمایا:عبداللہ کے گھر والوں کو شرک کی کوئی ضرورت نہیں۔میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرمارہے تھے:’’دم جھاڑ،تعوذ اور حب کا عمل (یہ سب)شرک ہیں۔‘‘ میں نے کہا: میں ایک دن (گھر سے)نکلی تو فلان شخص نے مجھےدیکھ لیا۔میری جو آنکھ اس کی طرف تھی،اس سے پانی بہنے لگا۔جب میں دم کرواتی تو پانی رک جاتا،جب میں (دم کرائےبغیر) چھوڑ دیتی تو اس سے پانی بہنےلگتا۔انہوں نے کا:وہ شیطان تھا،جب تو اس کی مرضی کا کام کرتی تھی،وہ تجھے چھوڑ دیتا،جب اس کی مرضی کے خلاف کرتی،وہ تیری آنکھ میں انگلی ماردیتا۔لیکن اگر تو وہ کام کرتی جو اللہ کےرسول ﷺ نے کیا تھا توتیرےلیے بہتر ہوتا اور تجھے ضرور شفامل جاتی۔تو اپنی آنکھ پر پانی کےچھینٹے مار اور کہہ((أَذْہِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ،وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِی،اشْفِ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا)) بیماری دور کردے،اے لوگوں کےرب! اور شفا دے دے۔تو ہی شفا دینے والاہے۔تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں،ایسی شفا دےکہ بیماری کو بالکل باقی نہ رہے۔‘‘