Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3664 (سنن ابن ماجہ)

[3664]إسنادہ حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَی بَنِي سَاعِدَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ إِذْ جَاءَہُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ أَبَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّہُمَا بِہِ مِنْ بَعْدِ مَوْتِہِمَا قَالَ نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْہِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَہُمَا وَإِيفَاءٌ بِعُہُودِہِمَا مِنْ بَعْدِ مَوْتِہِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِہِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِہِمَا

حضرت ابو اسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: ہم لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ قبیلئہ بنو سلمہ کا ایک آدمی آیا اور عرض کیا:اے اللہ کے رسول!کیا میرے والدین سےحسن سلوک کی کوئی صورت باقی ہے جس کے ذریعے سے ان کی وفات کے بعد میں ان سے نیکی کرسکوں؟آپ نے فرمایا: ہاں،ان کے لئے دعا کرنا،ان کے لئے (اللہ سے) بخشش کی درخواست کرنا،ان کی وفات کے بعد ان کے وعدے پورے کرنا (جو زندگی میں پورے نہ کرسکے ہوں)ان کے دوستوں کا احترام کرنا اور ان رشہ داروں سے صلہ رحمی کرنا جن سے تعلق صرف ان کے واسطے سے ہے۔