Sunan ibn Majah Hadith 367 (سنن ابن ماجہ)
[367]إسنادہ صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ أَخْبَرَنِي إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبٍ وَكَانَتْ تَحْتَ بَعْضِ وَلَدِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّہَا صَبَّتْ لِأَبِي قَتَادَةَ مَاءً يَتَوَضَّأُ بِہِ فَجَاءَتْ ہِرَّةٌ تَشْرَبُ فَأَصْغَی لَہَا الْإِنَاءَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْہِ فَقَالَ يَا ابْنَةَ أَخِي أَتَعْجَبِينَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّہَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ ہِيَ مِنْ الطَّوَّافِينَ أَوْ الطَّوَّافَاتِ
سیدنا کبشہ بنت کعب رضی اللہ عنہا جو سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے کی بیوی تھیں۔ان سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے لئے برتن میں پانی ڈال کر رکھاتاکہ وہ وضو کر لیں۔(اتنے میں) ایک بلی آکر(اس سے پانی) پینے لگی۔سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے برتن جھکا دیا(تاکہ وہ آسانی سے پانی پی لے) (کبشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا) میں ان کی طرف (تعجب سے دیکھنے لگی تو انہوں نے فرمایا:میری بھتیجی!کیا تمہیں تعجب ہو رہا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’یہ ناپاک نہیں‘‘۔یہ تو (ہر وقت گھروں میں) آتی جاتی رہتی ہے۔‘‘