Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3676 (سنن ابن ماجہ)

[3676]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّہُ قَالَ قُلْنَا لِرَسُولِ اللہِ ﷺ إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلَا يَقْرُونَا فَمَا تَرَی فِي ذَلِكَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْہُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَہُمْ

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا:ہم نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کیا:آپ ہمیں (سرکاری امور کی انجام دہی کے لئے)بھیجتے ہیں۔کچھ لوگوں کے پاس ہم ٹہرتے ہیں تو وہ ہماری مہمانی نہیں کرتے۔اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: جب تم کچھ لوگوں کے پاس (ان کی بستی میں)ٹہرو اور وہ تمہارے لئے وہ کچھ مہیا کریں جو مہمان کے لیے ہونا چاہئے تو (ان سے)قبول کرلو۔اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان سے مہمان کا وہ حق وصول کرو جو انہیں چاہیے تھا (کہ پیش کرتے۔)