Sunan ibn Majah Hadith 3685 (سنن ابن ماجہ)
[3685] إسنادہ ضعیف
یزید الرقاشي: ضعیف
وتلمیذہ الأعمش عنعن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ نُمَيْرٍ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَصُفُّ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُفُوفًا وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ أَہْلُ الْجَنَّةِ فَيَمُرُّ الرَّجُلُ مِنْ أَہْلِ النَّارِ عَلَی الرَّجُلِ فَيَقُولُ يَا فُلَانُ أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ اسْتَسْقَيْتَ فَسَقَيْتُكَ شَرْبَةً قَالَ فَيَشْفَعُ لَہُ وَيَمُرُّ الرَّجُلُ فَيَقُولُ أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ نَاوَلْتُكَ طَہُورًا فَيَشْفَعُ لَہُ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ وَيَقُولُ يَا فُلَانُ أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ بَعَثْتَنِي فِي حَاجَةِ كَذَا وَكَذَا فَذَہَبْتُ لَكَ فَيَشْفَعُ لَہُ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگ اور ابن نمیر کی روایت میں ہے:جنتی لوگ،صفیں بنائے ہوئے ہوں گے۔ایک جہنمی ایک (جنتی)آدمی کے پاس سے گزرے گا اور اس سے کہے گا:فلاں صاحب!کیا آپ کو یاد نہیں جس دن آپ نے پانی مانگا تھا تو میں نے آپ کو ایک گھونٹ پانی پلایا تھا؟چنانچہ وہ (اس دنیا میں کیا ہوا احسان یاد کرکے)اس کے حق میں شفاعت کردے گا۔اور دوسرا آدمی گزرے گا،وہ کہے گا: کیا آپ کو یاد نہیں جس دن میں نے آپ کو وضو کے لئے پانی دیا تھا؟چنانچہ وہ اس کے حق میں شفاعت کردے گا۔ابن نمیر (اپنی روایت میں) بیان کرتے ہیں: وہ کہے گا:فلاں صاحب! کیا آپ کو یاد نہیں جس دن آپ نے مجھے فلاں فلاں کام کے لئے بھیجا تھا تو میں آپ کے لئے گیا تھا؟چنانچہ وہ اس کے حق میں شفاعت کردےگا۔