Sheikh Zubair Alizai

Sunan ibn Majah Hadith 3741 (سنن ابن ماجہ)

[3741]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ قَالَ فِينَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ ﷺ وَالرَّجُلُ مِنَّا لَہُ الِاسْمَانِ وَالثَّلَاثَةُ فَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ رُبَّمَا دَعَاہُمْ بِبَعْضِ تِلْكَ الْأَسْمَاءِ فَيُقَالُ يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّہُ يَغْضَبُ مِنْ ہَذَا فَنَزَلَتْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ

حضرت ابو جبیرہ بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا:یہ آیت ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی:(وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ) ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو۔رسول اللہ ﷺ(ہجرت کرکے)ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے ایک ایک آدمی کے دودوتین تین نام ہوتے تھے۔نبی ﷺ بعض اوقات انہیں ان ناموں سے پکارتے تو عرض کیا جاتا: اے اللہ کےرسول! وہ اس نام سے ناراض ہوتا ہے۔تب یہ آیت نازل ہوئی: (وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ) ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو۔