Sunan ibn Majah Hadith 3848 (سنن ابن ماجہ)
[3848] إسنادہ ضعیف
ترمذي (3512)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاہِيمَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ ﷺ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ثُمَّ أَتَاہُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فَقَالَ يَا رَسُولَ اللہِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ثُمَّ أَتَاہُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللہِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ
حضت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،ایک آد می نے رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’اپنے رب سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کر۔‘‘ پھر وہ آدمی آپ کے پاس دوسرے دن حاضر خدمت ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسولؐ! کون سی دعا افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’اپنے رب سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کر۔‘‘ پھر وہ تیسرے دن حاضر خدمت ہوا اور کہا: اے اللہ کے نبیؐ! کون سی دعا افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’اپنے رب سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کر۔جب تجھے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت مل جائے گی تو یقیناً تو کامیاب ہو جائے گا۔‘‘