Sunan ibn Majah Hadith 3859 (سنن ابن ماجہ)
[3859] إسنادہ ضعیف
أبو شیبۃ غیر منسوب،وقال البوصیري: ’’لم أر من جرحہ ولا وثقہ‘‘ یعني أنہ مجہول الحال وھو مذکور فی التقریب (8165)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ،عَنِ الْفَزَارِيِّ،عَنْ أَبِي شَيْبَةَ،عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُكَيْمٍ الْجُہَنِيِّ،عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((اللہُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الطَّاہِرِ الطَّيِّبِ الْمُبَارَكِ الْأَحَبِّ إِلَيْكَ،الَّذِي إِذَا دُعِيتَ بِہِ أَجَبْتَ،وَإِذَا سُئِلْتَ بِہِ أَعْطَيْتَ،وَإِذَا اسْتُرْحِمْتَ بِہِ رَحِمْتَ،وَإِذَا اسْتُفْرِجَتَ بِہِ فَرَّجْتَ)) قَالَتْ: وَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: ((يَا عَائِشَةُ ہَلْ عَلِمْتِ أَنَّ اللہَ قَدْ دَلَّنِي عَلَی الِاسْمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِہِ أَجَابَ؟)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ،بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَعَلِّمْنِيہِ،قَالَ: ((إِنَّہُ لَا يَنْبَغِي لَكِ يَا عَائِشَةُ))،قَالَتْ: فَتَنَحَّيْتُ وَجَلَسْتُ سَاعَةً،ثُمَّ قُمْتُ فَقَبَّلْتُ رَأْسَہُ،ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللہِ،عَلِّمْنِيہِ،قَالَ: ((إِنَّہُ لَا يَنْبَغِي لَكِ يَا عَائِشَةُ أَنْ أُعَلِّمَكِ،إِنَّہُ لَا يَنْبَغِي لَكِ أَنْ تَسْأَلِي بِہِ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا))،قَالَتْ: فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ،ثُمَّ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ،ثُمَّ قُلْتُ: اللہُمَّ إِنِّي أَدْعُوكَ اللہَ،وَأَدْعُوكَ الرَّحْمَنَ،وَأَدْعُوكَ الْبَرَّ الرَّحِيمَ،وَأَدْعُوكَ بِأَسْمَائِكَ الْحُسْنَی كُلِّہَا،مَا عَلِمْتُ مِنْہَا،وَمَا لَمْ أَعْلَمْ،أَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي،قَالَتْ: فَاسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّہُ لَفِي الْأَسْمَاءِ الَّتِي دَعَوْتِ بِہَا))
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سرے روایت ہے،انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ کو سنا،آپ فرمارہے تھے: [اللہم إنی أسألک۔۔فرَّجت] یا اللہ! میں تجھ سے تیرے اس طاہر،طیب،برکت والے اور تجھے سب سے پیارے نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس کے وسیلے سے جب تجھ سے دعا کی جائے تو قبول فرماتا ہے،اور جب تجھ سے اس کے وسیلے سے کچھ مانگا جائے تو عطا فرماتا ہے،اور جب تجھ سے اس کے واسطے سے رحمت طلب کی جائے تو تو رحمت فرماتا ہے،اور جب تجھ سے اس کے واسطے سے پریشانی دور کرنے کی درخواست کی جائے تو تو پریشانی دور کرتا (اور مشکل کشائی فرماتا) ہے۔(بعد میں) ایک دن رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! تجھے پتہ ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ نام بتا دیا ہے جس کے واسطے سے جب اسے پکارا جائے تو وہ قبول فرماتا ہے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے بھی سکھا دیجیے۔آپ نےفرمایا: اے عائشہ! وہ تیر لیے مناسب نہیں۔انہوں نے کہا: میں کچھ دیر ایک طرف بیٹھی رہی،پھر میں اٹھی اور رسول اللہﷺ کے سر مبارک کو بوسہ دے کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سکھا دیجیے۔آپﷺ نے فرمایا: اے عائشہ یہ بات تمہارے لیے مناسب نہیں کہ میں تمہیں وہ سکھاؤں۔تمہارے لیے مناسب نہیں کہ اس کے وسیلے سے دنیا کی کوئی چیز مانگو ام المومنین رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اٹھ کر وضو کیا،پھر دو رکعت نماز پڑھی،پھر میں نے کہا: [اللہم! إنی أَدعوک اللہَ۔۔۔۔وترحمنی] یا اللہ! میں تجھے اللہ کہتی ہوں،میں تجھے رحمان کے نام سے پکارتی ہوں،میں تجھے برٌ رحیم پکارتی ہوں،میں تجھے تیرے تمام بہترین ناموں کا واسطہ دیتی ہوں جو نام مجھے معلوم ہیں اور جو معلوم نہیں (ان سب ناموں کا واسطہ دے کر دعا کرتی ہوں) کہ میری مغفرت فرمادے اور مجھ پر رحمت فرمادے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر رسول اللہﷺ خوب ہنسے اور فرمایا: وانہیں ناموں میں ہے جن کے وسیلے سے تو نے دعا کی ہے۔