Sunan ibn Majah Hadith 507 (سنن ابن ماجہ)

[507] إسنادہ ضعیف

أبو حبیب: مجہول (تقریب: 8038) وأصلہ فی الصحیحین من حدیث علي والمقداد رضي اللہ عنہما (البخاري: 132 ومسلم: 303)

انوار الصحیفہ ص 396

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ أَبِي حَبِيبِ بْنِ يَعْلَی بْنِ مُنْيَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ أَتَی أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَمَعَہُ عُمَرُ فَخَرَجَ عَلَيْہِمَا فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ مَذْيًا فَغَسَلْتُ ذَكَرِي وَتَوَضَّأْتُ فَقَالَ عُمَرُ أَوَ يُجْزِئُ ذَلِكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَسَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ نَعَمْ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے۔وہ (گھر سے) باہر تشریف لائے۔(بات چیت کے دوران میں سیدنا ابی نے) فرمایا: مجھے مذی آگئی تھی تو میں نے عضو خاص کو دھو کر وضو کیا ہے۔(اس لئے باہر آنے میں دیر ہوئی) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا یہ(وضو کر لینا) کافی ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔فرمایا: کیا آپ نے یہ مسئلہ رسول اللہ ﷺ سے (خود) سنا ہے۔انہوں نے کہا: جی ہاں۔