Sunan ibn Majah Hadith 568 (سنن ابن ماجہ)

[568]بخاری ومسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّہَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَہَلَكَتْ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ ﷺ أُنَاسًا فِي طَلَبِہَا فَأَدْرَكَتْہُمْ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَلَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ ﷺ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْہِ فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ جَزَاكِ اللہُ خَيْرًا فَوَاللہِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللہُ لَكِ مَخْرَجًا وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيہِ بَرَكَةً

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریتاً لیا(سف رکے دوران میں ایک مقام پر) وہ گم ہوگیا۔نبی ﷺ نے چند افراد اس کو تلاش کرنے کے لئے بھیجے۔(اس دوران میں) نماز کا وقت ہو گیا تو ان افراد نے وضو کیے بغیر نماز پڑھ لی۔(کیوں کہ ان کے پاس پانی نہیں تھا) جب وہ(ہار تلاش کر کے) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اس چیز کی شکایت کی۔تب تیمم کی آیت نازل ہوگئی۔سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے! آپ پر جب بھی کوئی مشکل آئی،اللہ تعالیٰ نے آپ کو تو اس (مشکل) سے نجات دے دی اور اس میں مسلمانوں کے لئے کوئی برکت عنایت فرمادی۔