Sunan ibn Majah Hadith 716 (سنن ابن ماجہ)
[716] إسنادہ ضعیف
قال البوصیري: ’’رجالہ ثقات إلا أن فیہ انقطاعًا۔سعید بن المسیب لم یسمع من بلال‘‘۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّہْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ بِلَالٍ أَنَّہُ أَتَی النَّبِيَّ ﷺ يُؤْذِنُہُ بِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَقِيلَ ہُوَ نَائِمٌ فَقَالَ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ فَأُقِرَّتْ فِي تَأْذِينِ الْفَجْرِ فَثَبَتَ الْأَمْرُ عَلَی ذَلِكَ
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فجر کی نماز کی اطلاع دینے کے لئے ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو معلوم ہوا کہ آپ ابھی آرام فرما رہے ہیں۔سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: (الصلوۃ خیر من النوم،الصلوہ خیر من النوم) ’’نماز نیند سے بہتر ہے،نماز نیند سے بہتر ہے۔‘‘ تب یہ کلمہ فجر کی اذان میں مقرر کر دیا گیا،پھر اسی پر عمل جاری رہا۔