Sunan ibn Majah Hadith 945 (سنن ابن ماجہ)

[945]بخاری ومسلم

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ،عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ،أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ،أَرْسَلَ إِلَی أَبِي جُہَيْمٍ الْأَنْصَارِيِّ يَسْأَلُہُ: مَا سَمِعْتَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ وَہُوَ يُصَلِّي؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَہُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيہِ وَہُوَ يُصَلِّي،كَانَ لَأَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ)) قَالَ: لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ عَامًا،أَوْ أَرْبَعِينَ شَہْرًا،أَوْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ((خَيْرٌ لَہُ مِنْ ذَلِكَ))

سیدنا بسر بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا: سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو جہیم انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیغام بھیجا(کہ یہ بتایئے) آپ نے نبی ﷺ سے نمازی کے آگے سے کسی کے گزرنے کے بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ فرماےت تھے: ’’اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ جب اس کا بھائی نماز پڑھ رہا ہو تو اس (نمازی) کے آگے سے گزرنے کا کیا گناہ ہے تو چالیس۔۔۔۔معلوم نہیں چالیس سال فرمایا،یا چالیس ماہ یا چالیس دن۔۔۔تک ٹھہرنے کو بہتر سمجھے۔‘‘