Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1043 (مشکوۃ المصابیح)
[1043] متفق علیہ، رواہ البخاري (1233) و مسلم (297/ 834)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ كُرَيْبٍ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مخرمَة وَعبد الرَّحْمَن بن أَزْہَر رَضِي اللہُمَّ عَنْہُم وأرسلوہ إِلَی عَائِشَةَ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْہَا السَّلَامُ وَسَلْہَا عَن [ص:329] الرَّكْعَتَيْنِ بعدالعصرقال: فَدَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ فَبَلَّغْتُہَا مَا أَرْسَلُونِي فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْہِمْ فَرَدُّونِي إِلَی أم سَلمَة فَقَالَت أم سَلمَة رَضِي اللہُمَّ عَنْہَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَنْہَی عَنْہُمَا ثُمَّ رَأَيْتُہُ يُصَلِّيہِمَا ثُمَّ دَخَلَ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْہِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ: قُولِي لَہُ تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللہِ سَمِعْتُكَ تَنْہَی عَنْ ہَاتين وَأَرَاكَ تُصَلِّيہِمَا؟ قَالَ: ((يَا ابْنَةَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَإِنَّہُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بعد الظّہْر فہما ہَاتَانِ))
کریب ؒ سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ،مسور بن مخرمہ ؓ اور عبدالرحمٰن بن ازہر ؓ نے انہیں عائشہ ؓ کے پاس بھیجا تو انہوں نے کہا: انہیں سلام عرض کرنا اور پھر ان سے عصر کے بعد دو رکعتوں کے بارے میں دریافت کرنا۔راوی بیان کرتے ہیں،میں عائشہ ؓ کے پاس گیا اور انہوں نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا تھا وہ میں نے ان تک پہنچا دیا تو انہوں نے فرمایا: ام سلمہ ؓ سے دریافت کرو،پس میں ان کے پاس واپس چلا آیا تو انہوں نے مجھے ام سلمہ ؓ کے پاس بھیج دیا،تو ام سلمہ ؓ نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان سے منع فرماتے ہوئے سنا،پھر میں نے آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے دیکھا،پھر آپ تشریف لائے تو میں نے لونڈی کو آپ کے پاس بھیجا اور کہا،آپ سے عرض کرنا،ام سلمہ ؓ کہتی ہیں،اللہ کے رسول! میں نے آپ کو ان دو رکعتوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔جبکہ میں نے آپ کو انہیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ابوامیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے متعلق پوچھا ہے،(وہ ایسے ہوا) کہ عبدالقیس کے کچھ لوگ میرے پاس آئے اور انہوں نے ظہر کے بعد والی دو رکعتوں سے مجھے مشغول رکھا،پس یہ وہ دو رکعتیں ہیں۔‘‘ متفق علیہ۔