Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1072 (مشکوۃ المصابیح)
[1072] رواہ مسلم (257، 256 / 654)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنِ الصَّلَاةِ إِلَّا مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُہُ أَوْ مَرِيضٌ إِنْ كَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ حَتَّی يَأْتِيَ الصَّلَاةَ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْہُدَی وَإِنَّ مِنْ سُنَنِ الْہُدَی الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيہِ وَفِي رِوَايَة: مَنْ سَرَّہُ أَنْ يَلْقَی اللہَ غَدًا مُسْلِمًا فليحافظ علی ہَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَيْثُ يُنَادَی بِہِنَّ فَإِنَّ اللہَ شرع لنبيكم صلی اللہ عَلَيْہِ وَسلم سُنَنَ الْہُدَی وَإِنَّہُنَّ مِنْ سُنَنِ الْہُدَی وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي ہَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِہِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَہَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّہُورَ ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَی مَسْجِدٍ مِنْ ہَذِہِ الْمَسَاجِدِ إِلَّا كَتَبَ اللہُ لَہُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوہَا حَسَنَةً وَرَفَعَہُ بِہَا دَرَجَةً ويحط عَنْہُ بِہَا سَيِّئَةً وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْہَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَی بِہِ يُہَادَی بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّی يُقَام فِي الصَّفّ. رَوَاہُ مُسلم
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں،ہم جانتے تھے کہ با جماعت نماز سے صرف وہی منافق شخص پیچھے رہتا تھا جس کا منافق ہونا معلوم تھا،یا پھر کوئی مریض رہ جاتا تھا،اگر مریض دو آدمیوں کے سہارے چل سکتا تو وہ با جماعت نماز کے لیے حاضر ہوتا،اور انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ہدایت کی راہیں سکھائیں،اور جس مسجد میں اذان دی جاتی ہو اس میں نماز پڑھنا ہدایت کی راہوں میں سے ہے۔اور ایک روایت میں ہے،فرمایا: جس شخص کو پسند ہو کہ وہ کل مسلمان کی حیثیت سے اللہ سے ملاقات کرے تو پھر اسے پانچوں نمازوں کی با جماعت پابندی کرنی چاہیے،بے شک اللہ نے تمہارے نبی کے لیے ہدایت کی راہیں مقرر فرما دی ہیں،اور بے شک وہ (پانچوں نمازیں) ہدایت کی سنن میں سے ہیں،اگر تم نے نماز سے پیچھے رہ جانے والے اس شخص کی طرح اپنے گھروں میں نماز پڑھی تو تم اپنے نبی کی سنت چھوڑ دو گے،اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت چھوڑ دی تو تم گمراہ ہو جاؤ گے۔اور جو شخص اچھی طرح وضو کر کے کسی مسجد کا قصد کرتا ہے تو اللہ اس کے ہر قدم اٹھانے پر اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے،اس کے ذریعے ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے اور اس کی وجہ سے ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے،اور ہم جانتے تھے کہ نماز سے صرف وہی منافق شخص پیچھے رہتا تھا جس کے نفاق کے بارے میں معلوم ہوتا تھا،اور ایسے بھی ہوتا تھا کہ کسی آدمی کو دو آدمیوں کے سہارے لا کر صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا۔رواہ مسلم۔