Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1078 (مشکوۃ المصابیح)

[1078] سندہ ضعیف، رواہ أبو داود (553) والنسائي (2/ 110 ح 852) [و صححہ ابن خزیمۃ (1478) والحاکم (1/ 247) ووافقہ الذہبي۔ ] ٭ سفیان الثوري عنعن و حدیث مسلم (653) یغني عنہ۔

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن عبد اللہ بن أم مَكْتُوم قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْہَوَامِّ وَالسِّبَاعِ وَأَنَا ضَرِيرُ الْبَصَرِ فَہَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ قَالَ: ((ہَلْ تَسْمَعُ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ؟)) قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: ((فَحَيَّہَلَا)) . وَلَمْ يُرَخِّصْ لَہُ. رَوَاہُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

عبداللہ بن ام مکتوم ؓ نے عرض کیا،اللہ کے رسول! مدینہ میں بہت زیادہ موذی جانور اور درندے ہیں،جبکہ میں ایک نابینا شخص ہوں،کیا آپ میرے لیے کوئی گنجائش پاتے ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا تم،آؤ نماز کی طرف،آؤ کامیابی کی طرف (یعنی اذان) سنتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا،جی ہاں۔آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا،’’پس پھر جلدی آؤ۔‘‘ اور آپ نے رخصت نہ دی۔ضعیف۔