Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1080 (مشکوۃ المصابیح)
[1080] إسنادہ ضعیف، رواہ مالک (1/ 131 ح 292) ٭ أبو بکر بن سلیمان بن أبي حثمۃ لم یذکر من حدّثہ بہ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَدَ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ وَإِنَّ عُمَرَ غَدَا إِلَی السُّوقِ وَمَسْكَنُ سُلَيْمَانَ بَيْنَ الْمَسْجِدِ وَالسُّوقِ فَمَرَّ عَلَی الشِّفَاءِ أُمِّ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَہَا لَمْ أَرَ سُلَيْمَانَ فِي الصُّبْحِ فَقَالَتْ إِنَّہُ بَاتَ يُصَلِّي فَغَلَبَتْہُ عَيْنَاہُ فَقَالَ عُمَرُ لَأَنْ أَشْہَدَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي الْجَمَاعَة أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَقُومَ لَيْلَةً. رَوَاہُ مَالك
ابوبکر بن سلیمان بن ابوحشمہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے سلیمان بن ابوحشمہ کو نماز فجر میں نہ پایا،اور عمر ؓ بازار تشریف لے گئے،سلیمان کا گھر مسجد اور بازار کے درمیان واقع تھا،تو آپ سلیمان کی والدہ شفاء کے پاس سے گزرے تو آپ نے ان سے پوچھا: میں نے نماز فجر میں سلیمان نہیں دیکھا۔تو انہوں نے عرض کیا،وہ رات بھر نماز پڑھتا رہا اور پھر اسے نیند آ گئی۔عمر ؓ نے فرمایا: اگر میں نماز فجر با جماعت ادا کر لوں تو یہ مجھے رات بھر قیام کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔ضعیف۔