Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1116 (مشکوۃ المصابیح)

[1116] إسنادہ صحیح، رواہ النسائي (2/ 88 ح 809) [و صححہ ابن خزیمۃ (1573) و ابن حبان (398) و لہ طریق آخر عند الحاکم (4/ 527) و صححہ ووافقہ الذہبي۔ ]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ فَجَبَذَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي جَبْذَةً فَنَحَّانِي وَقَامَ مَقَامِي فَوَاللہِ مَا عَقَلْتُ صَلَاتِي. فَلَمَّا انْصَرَفَ إِذَا ہُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ: يَا فَتَی لَا يَسُوءُكَ اللہُ إِنَّ ہَذَا عُہِدَ مِنَ النَّبِيِّ ﷺ إِلَيْنَا أَنْ نَلِيَہُ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ: ہَلَكَ أَہْلُ الْعُقَدِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: وَاللہِ مَا عَلَيْہِمْ آسَی وَلَكِنْ آسَی عَلَی مَنْ أَضَلُّوا. قُلْتُ يَا أَبَا يَعْقُوبَ مَا تَعْنِي بِأَہْلِ العقد؟ قَالَ: الْأُمَرَاء. رَوَاہُ النَّسَائِيّ

قیس بن عباد بیان کرتے ہیں،اسی اثنا میں کہ میں مسجد میں پہلی صف میں تھا کہ کسی آدمی نے مجھے زور سے پیچھے کھینچا،وہ مجھے وہاں سے ہٹا کر خود وہاں کھڑا ہو گیا،اللہ کی قسم! مجھے اپنی نماز کے بارے میں کچھ یاد نہ رہا،جب نماز سے فارغ ہوئے تو وہ ابی بن کعب ؓ تھے،انہوں نے فرمایا: نوجوان! اللہ تمہیں کسی تکلیف سے دوچار نہ کرے،بے شک یہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے ہمارے لیے حکم ہے کہ ہم امام کے پاس کھڑے ہوں،پھر انہوں نے قبلہ رخ کھڑے ہو کر فرمایا:’’اہل عقد‘‘ ہلاک ہو گئے،رب کعبہ کی قسم! مجھے ان پر کوئی افسوس نہیں،لیکن مجھے افسوس تو ان پر ہے جنہوں نے گمراہ کیا،میں نے کہا: ابویعقوب! ’’اہل عقد‘‘ سے کون مراد ہیں؟ انہوں نے فرمایا: حکمران۔صحیح،رواہ النسائی۔