Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1147 (مشکوۃ المصابیح)

[1147] متفق علیہ، رواہ البخاري (687) و مسلم (90/ 418)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَن عبيد اللہ بن عبد اللہ بن عتبَة قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَتْ بَلَی ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسلم فَقَالَ: ((أصلی النَّاس؟)) قُلْنَا لَا يَا رَسُولَ اللہِ وَہُمْ يَنْتَظِرُونَكَ فَقَالَ: ((ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ)) قَالَتْ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ فَذَہَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْہِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ صلی اللہ عَلَيْہِ وَسلم: ((أَصَلَّی النَّاسُ؟)) قُلْنَا لَا ہُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللہِ قَالَ: ((ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ)) قَالَتْ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَہَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْہِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: ((أَصَلَّی النَّاسُ؟)) قُلْنَا لَا ہُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللہِ فَقَالَ: ((ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ)) فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَہَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْہِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: ((أَصَلَّی النَّاسُ)) . قُلْنَا لَا ہُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللہِ وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ النَّبِيَّ ﷺ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ. فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ ﷺ إِلَی أَبِي بَكْرٍ بِأَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَتَاہُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَأْمُرُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَجُلًا رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِكَ فَصَلَّی أَبُو بَكْرٍ تِلْكَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ وجد من نَفْسِہِ خِفَّةً وَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُہُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّہْرِ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآہُ أَبُو بَكْرٍ ذَہَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْہِ النَّبِيُّ ﷺ بِأَنْ لَا يَتَأَخَّرَ قَالَ: ((أَجْلِسَانِي إِلَی جَنْبِہِ)) فَأَجْلَسَاہُ إِلَی جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسلم قَاعد. قَالَ عُبَيْدُ اللہِ: فَدَخَلْتُ عَلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَہُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْكَ مَا حَدَّثتنِي بِہِ عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللہِ ﷺ؟ قَالَ ہَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَيْہِ حَدِيثَہَا فَمَا أَنْكَرَ مِنْہُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّہُ قَالَ أَسَمَّتْ لَكَ الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قلت لَا قَالَ ہُوَ عَليّ رَضِي اللہ عَنہُ

عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں،میں عائشہ ؓ کے پاس گیا اور عرض کیا: کیا آپ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مرض کے متعلق مجھے کچھ بتائیں گی؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں،فرمایا: جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیمار ہوئے تو آپ نے پوچھا:’’کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں؟‘‘ ہم نے عرض کیا،نہیں،اللہ کے رسول! وہ تو آپ کا انتظار کر رہے ہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’میرے ٹب میں پانی ڈالو۔‘‘ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں،ہم نے پانی ڈال دیا تو آپ نے غسل فرمایا،آپ نے اٹھنے کا قصد کیا تو آپ پر غشی طاری ہو گئی،پھر افاقہ ہوا تو فرمایا:’’کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں؟‘‘ ہم نے عرض کیا،اللہ کے رسول! نہیں،وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’میرے لیے ٹب میں پانی ڈالو۔‘‘ آپ نے بیٹھ کر غسل فرمایا،پھر اٹھنے کا قصد کیا تو آپ پر غشی طاری ہو گئی،پھر افاقہ ہوا تو فرمایا:’’کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں۔‘‘ ہم نے عرض کیا،نہیں اللہ کے رسول! اور لوگ مسجد میں کھڑے نماز عشاء کے لیے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منتظر تھے،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوبکر ؓ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں،قاصد ان کے پاس آیا اور اس نے کہا،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آپ کو حکم فرما رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں،ابوبکر ؓ نے،جو کہ رقیق قلب تھے،فرمایا: عمر! آپ نماز پڑھائیں،تو عمر ؓ نے انہیں فرمایا: آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں،ابوبکر ؓ نے ان ایام میں نماز پڑھائی،پھر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی طبیعت میں بہتری محسوس کی تو آپ دو آدمیوں،ان میں سے ایک عباس ؓ تھے،کے سہارے نماز ظہر کے لیے تشریف لائے جبکہ ابوبکر ؓ نماز پڑھا رہے تھے،جب ابوبکر ؓ نے آپ کو دیکھا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے،لیکن نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں پیچھے نہ ہٹنے کا اشارہ فرمایا،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو۔‘‘ انہوں نے آپ کو ابوبکر ؓ کے پہلو میں بٹھا دیا،اور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیٹھ کر نماز ادا کی۔عبیداللہ بیان کرتے ہیں،میں عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس گیا،تو میں نے انہیں کہا: کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان کروں جو عائشہ ؓ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مرض کے متعلق مجھے بیان کی ہے،انہوں نے فرمایا: بیان کرو،میں نے ان سے مروی حدیث انہیں بیان کی تو انہوں نے اس حدیث میں سے کسی چیز کا انکار نہ کیا،البتہ انہوں نے یہ پوچھا: کیا انہوں نے عباس ؓ کے ساتھ دوسرے آدمی کے نام کے بارے میں تمہیں بتایا تھا؟ میں نے کہا: نہیں،انہوں نے فرمایا: وہ علی ؓ تھے۔متفق علیہ۔