Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1146 (مشکوۃ المصابیح)
[1146] صحیح، رواہ الترمذي (220 وقال: حدیث حسن۔) و أبو داود (574) [و صححہ ابن خزیمۃ (1632) و ابن حبان (436، 438) والحاکم (1/ 209) ووافقہ الذھبي۔ ] ٭ ھذا الحدیث دلیل صریح علٰی مشروعیۃ تعدد الجماعات فی المسجد برضا الإمام و أھل المسجد، و تؤیدہ أدلۃ أخری و لم یثبت خلافہ والحمد للّٰہ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ صَلَّی رَسُولُ اللہِ ﷺ فَقَالَ: ((أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَی ہَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَہُ؟)) فَقَامَ رَجُلٌ فيصلی مَعَہ . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں،ایک آدمی آیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ چکے تھے،آپ نے فرمایا:’’کیا کوئی شخص اس پر صدقہ کرے گا کہ وہ اس کے ساتھ نماز پڑھے؟‘‘ ایک آدمی کھڑا ہوا تو اس نے اس کے ساتھ (با جماعت) نماز پڑھی۔صحیح،رواہ الترمذی و ابوداؤد۔