Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1153 (مشکوۃ المصابیح)

[1153] إسنادہ حسن، رواہ مالک (1/ 132 ح 294) والنسائي (2/ 112 ح 858) [و صححہ ابن حبان (الإحسان: 2398) والحاکم (1/ 244)]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَن بسر بن محجن عَن أَبِيہ أَنَّہُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَأُذِّنَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فَصَلَّی وَرَجَعَ وَمِحْجَنٌ فِي مَجْلِسِہِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ النَّاسِ؟ أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ؟)) فَقَالَ: بَلَی يَا رَسُولَ اللہِ وَلَكِنِّي كُنْتُ قَدْ صَلَّيْتُ فِي أَہْلِي فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((إِذَا جِئْتَ الْمَسْجِدَ وَكُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ)) . رَوَاہُ مَالك وَالنَّسَائِيّ

بسر بن محجن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کسی مجلس میں موجود تھے،اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھ کر واپس تشریف لے آئے جبکہ محجن اپنی جگہ پر ہی تھے،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ا سے پوچھا:’’تم نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی،کیا تم مسلمان نہیں ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! کیوں نہیں،ضرور مسلمان ہیں،لیکن میں اپنے گھر نماز پڑھ چکا تھا،اس پر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا:’’جب تم نماز پڑھنے کے بعد مسجد میں آؤ،اور نماز ہو رہی ہو تو تم جماعت کے ساتھ نماز پڑھو خواہ تم نماز پڑھ ہی چکے ہو۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ مالک و النسائی۔