Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1154 (مشکوۃ المصابیح)
[1154] إسنادہ ضعیف، رواہ مالک (1/ 133 ح 297) و أبو داود (578) ٭ رجل من أسد بن خزیمۃ: لم أعرفہ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ أَنَّہُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ: يُصَلِّي أَحَدُنَا فِي مَنْزِلِہِ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَأُصَلِّي مَعَہُمْ فَأَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا من ذَلِك فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: سَأَلَنَا عَنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ ﷺ قَالَ: ((فَذَلِكَ لَہُ سَہْمُ جَمْعٍ)) . رَوَاہُ مَالِكٌ وَأَبُو دَاوُد
اسد بن خزیمہ کے قبیلے کے ایک شخص سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری ؓ سے مسئلہ دریافت کیا،ہم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ کر مسجد میں آتا ہے اور نماز ہو رہی ہو تو کیا میں ان کے ساتھ نماز پڑھوں؟ اس پر میرا دل مطمئن نہیں ہوتا،ابوایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں،ہم نے اس بارے میں دریافت کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے جماعت کا ثواب ہے۔‘‘ ضعیف۔