Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1187 (مشکوۃ المصابیح)

[1187] إسنادہ صحیح، رواہ أبو داود (1130) والترمذي (522 وقال: حسن صحیح۔) [و صححہ ابن الملقن في تحفۃ المحتاج (430)]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا صَلَّی الْجُمُعَةَ بِمَكَّةَ تَقَدَّمَ فَصَلَّی رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيُصَلِّي أَرْبَعًا وَإِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ صَلَّی الْجُمُعَةَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی بَيْتِہِ فَصَلَّی رَكْعَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْمَسْجِدِ فَقِيلَ لَہُ. فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَفْعَلہ) رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: (رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ صَلَّی بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ ثمَّ صلی بعد ذَلِك أَرْبعا)

عطا ء ؒ بیان کرتے ہیں،جب ابن عمر ؓ مکہ میں نماز جمعہ ادا فرماتے تو تھوڑا سا آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے،پھر آگے بڑھ کر چار رکعتیں پڑھتے اور جب مدینہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کر اپنے گھر تشریف لے جاتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور مسجد میں نہ پڑھتے،جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ابوداؤد،اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے: انہوں نے بیان کیا،میں نے ابن عمر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں پھر اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔صحیح،رواہ ابوداؤد و الترمذی۔