Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1188 (مشکوۃ المصابیح)
[1188] متفق علیہ، رواہ البخاري (994) و مسلم (122 / 736)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي فِيمَا بَين أَن يفرغ من صَلَاة الْعشَاء إِلَی الْفَجْرِ إِحْدَی عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ فَيَسْجُدُ السَّجْدَةَ مِنْ ذَلِكَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَہُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَہُ الْفَجْرُ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَی شِقِّہِ الْأَيْمَنِ حَتَّی يَأْتِيہِ الْمُؤَذّن للإقامة فَيخرج
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء سے فارغ ہو کر طلوع فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے،آپ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے،اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے،آپ اس میں اتنا لمبا سجدہ فرماتے کہ آپ کے سر اٹھانے سے پہلے کوئی شخص پچاس آیات کی تلاوت کر لیتا،جب مؤذن نماز فجر کی اذان سے فارغ ہو جاتا اور فجر واضح ہو جاتی تو آپ ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے اور پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے حتیٰ کہ مؤذن حاضر خدمت ہو کر اقامت کے لیے درخواست کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز پڑھانے کے لیے) تشریف لے جاتے۔متفق علیہ۔