Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1196 (مشکوۃ المصابیح)

[1196] رواہ مسلم (191/ 763)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْہُ: أَنَّہُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ وَہُوَ يَقُول: (إِن فِي خلق السَّمَاوَات وَالْأَرْض. . .) حَتَّی خَتَمَ السُّورَةَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی رَكْعَتَيْنِ أَطَالَ فِيہِمَا الْقِيَامَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّی نَفَخَ ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ سِتَّ رَكَعَاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ ہَؤُلَاءِ الْآيَاتِ ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ. رَوَاہُ مُسلم

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں سوئے،آپ بیدار ہوئے،مسواک کی اور وضو کیا،اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے:’’بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں،،،،،۔‘‘ آخر سورت تک۔پھر آپ کھڑے ہوئے دو رکعتیں پڑھیں ان میں قیام اور رکوع و سجود لمبا کیا،پھر آپ آ کر سو گئے حتیٰ کہ آپ خراٹے بھرنے لگے،پھر آپ نے تین مرتبہ ایسے کرتے ہوئے چھ رکعتیں پڑھیں،آپ ہر مرتبہ مسواک کرتے،وضو کرتے اور ان آیات کی تلاوت فرماتے تھے،پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین وتر پڑھے۔رواہ مسلم۔