Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1210 (مشکوۃ المصابیح)
[1210] حسن، رواہ أبو داود (1466) والترمذي (2932 وقال: حسن صحیح غریب۔) والنسائي (214/3 ح 1630)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَن يَعْلَی بْنِ مُمَلَّكٍ أَنَّہُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ ﷺ وَصَلَاتِہِ؟ فَقَالَتْ: وَمَا لَكُمْ وَصَلَاتُہُ؟ كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّی ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّی حَتَّی يُصْبِحَ ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَہُ فَإِذَا ہِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا) رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ
یعلی بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام سلمہ ؓ سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت اور نماز کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: تم ان کی نماز کے متعلق پوچھ کر کیا کرو گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے،پھر آپ نے جتنی دیر نماز پڑھی ہوتی،اتنی دیر سو جاتے تھے،پھر جس قدر سوئے اسی قدر نماز پڑھتے،پھر جتنی دیر نماز پڑھی ہوتی اسی قدر سو جاتے تھے حتیٰ کہ صبح ہو جاتی،پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کے متعلق بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ کی قراءت کا ایک ایک حرف واضح ہوتا تھا۔حسن،رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی۔