Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1211 (مشکوۃ المصابیح)

[1211] متفق علیہ، رواہ البخاري (1120) و مسلم (199/ 769)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَہَجَّدُ قَالَ: ((اللہُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيہِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيہِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيہِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَقَوْلُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللہُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ وَلَا إِلَہَ غَيْرك))

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تہجد پڑھتے تو (اللہ اکبر کہنے کے بعد) یہ دعا پڑھتے: اے اللہ! ہر قسم کی حمد تیرے ہی لیے ہے،زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے انہیں تو ہی قائم رکھنے والا ہے،ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے،زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے اس کا تو ہی نور ہے،ہر قسم کی تعریف تیرے لیے ہے زمین و آسمان اور جو کچھ اس میں ہے اس کا تو ہی مالک ہے،ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے تو حق ہے،تیرا وعدہ حق ہے،تیری ملاقات حق ہے،تیری بات حق ہے،جنت حق ہے،جہنم حق ہے،تمام انبیا علیہم السلام حق ہیں،محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) حق ہیں،اور قیامت حق ہے،اے اللہ! میں تیرے سامنے جھک گیا،تجھ پر ایمان لایا،تجھ پر توکل کیا،تیری طرف رجوع کیا،میں نے تیری ہی توفیق سے جھگڑا کیا،میں نے تجھے ہی اپنا حاکم تصور کیا،پس تو میرے اگلے پچھلے،ظاہر و پوشیدہ اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے وہ سارے گناہ معاف فرما دے،تو ہی ترقی اور تنزلی دینے والا ہے،صرف تو ہی معبود ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘ متفق علیہ۔