Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1277 (مشکوۃ المصابیح)
[1277] رواہ البخاري (3765)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قِيلَ لَہُ: ہَلْ لَكَ فِي أَمِير الْمُؤمنِينَ مُعَاوِيَة فَإِنَّہُ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَةٍ؟ قَالَ: أَصَابَ إِنَّہُ فَقِيہٌ وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ وَعِنْدَہُ مَوْلًی لِابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَی ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ: دَعْہُ فَإِنَّہُ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ ﷺ. رَوَاہُ الْبُخَارِيُّ
ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا کیا امیر المومنین معاویہ ؓ کے بارے میں آپ کے پاس کوئی جواب یا فتویٰ ہے کہ وہ صرف ایک وتر پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: وہ درست ہیں کیونکہ وہ ایک فقیہ شخص ہیں۔اور ایک دوسری روایت میں ہے: ابن ملیکہ ؒ نے فرمایا: معاویہ نے نماز عشاء کے بعد ایک رکعت وتر پڑھی،اور ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام آپ کے پاس تھے،انہوں نے ابن عباس ؓ کے پاس آ کر انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو کیونکہ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اختیار کرنے کا شرف حاصل ہے۔رواہ البخاری۔