Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1301 (مشکوۃ المصابیح)
[1301] رواہ البخاري (2010)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَن عبد الرَّحْمَن بن عبد الْقَارِي قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَيْلَةً فِي رَمَضَان إِلَی الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِہِ وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلَاتِہِ الرَّہْطُ فَقَالَ عمر: إِنِّي أری لَوْ جَمَعْتُ ہَؤُلَاءِ عَلَی قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَہُمْ عَلَی أُبَيِّ بْنِ كَعْب ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَہُ لَيْلَةً أُخْرَی وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاة قارئہم. قَالَ عمر رَضِي اللہ عَنہُ: نعم الْبِدْعَةُ ہَذِہِ وَالَّتِي تَنَامُونَ عَنْہَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي تَقُومُونَ. يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ وَكَانَ النَّاسُ يقومُونَ أَولہ. رَوَاہُ البُخَارِيّ
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری ؓ بیان کرتے ہیں،میں ایک رات عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ مسجد (نبوی) میں گیا تو وہاں لوگ متفرق طور پر ایک ایک،دو دو اور کہیں چند افراد کی جماعت کی صورت میں نماز تراویح پڑھ رہے تھے،یہ صورت دیکھ کر عمر ؓ نے فرمایا: اگر میں انہیں ایک امام کی اقتدا پر اکٹھا کر دوں تو وہ بہتر ہو گا،پھر انہوں نے پختہ عزم کیا اور انہیں ابی بن کعب ؓ کی اقتدا پر جمع کر دیا،راوی بیان کرتے ہیں: میں کسی اور رات پھر ان کے ساتھ آیا تو لوگ اپنے قاری کی امامت میں نماز پڑھ رہے تھے،(یہ دیکھ کر) عمر ؓ نے فرمایا: یہ نئی بات (با جماعت تراویح) بہت اچھی ہے۔اور وہ نماز جس سے تم سو جاتے ہو وہ اس نماز کے پڑھنے سے افضل ہے،(راوی کہتا ہے) اس سے عمر ؓ کی مراد رات کا آخری حصہ ہے،جبکہ لوگ اول رات میں نماز پڑھتے تھے۔رواہ البخاری۔