Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1305 (مشکوۃ المصابیح)
[1305] إسنادہ ضعیف، رواہ البیھقي فی الدعوات الکبیر (لم أجدہ فی المطبوع منہ) ٭ و رواہ البیھقي في شعب الإیمان (3835) من طریق العلاء بن الحارث عن عائشۃ بہ وھو منقطع و رواہ البیھقي في فضائل الأوقات (ص 126۔ 128 ح 26) نحوہ مطولاً و فیہ النظر بن کثیر العبدي وھو ضعیف وللحدیث شواھد ضعیفۃ و أخرج النسائي (4/ 201 ح 2359) بسند حسن: ’’وھو شھر ترفع فیہ الأعمال إلی رب العالمین‘‘ یعني شعبان۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ((ہَل تدرين مَا ہَذِہ اللَّيْل؟)) يَعْنِي لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ قَالَتْ: مَا فِيہَا يَا رَسُولَ اللہِ فَقَالَ: ((فِيہَا أَنْ يُكْتَبَ كلُّ مَوْلُودٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي ہَذِہِ السَّنَةِ وَفِيہَا أَنْ يُكْتَبَ كُلُّ ہَالِكٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِي ہَذِہِ السَّنَةِ وَفِيہَا تُرْفَعُ أَعْمَالُہُمْ وَفِيہَا تَنْزِلُ أَرْزَاقُہُمْ)) . فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللہِ مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللہِ تَعَالَی؟ فَقَالَ: ((مَا مِنْ أحد يدْخل الْجنَّة إِلَّا برحمة اللہ تَعَالَی)) . ثَلَاثًا. قُلْتُ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللہِ؟ فَوَضَعَ يَدَہُ عَلَی ہَامَتِہِ فَقَالَ: ((وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللہُ بِرَحْمَتِہِ)) . يَقُولُہَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاہُ الْبَيْہَقِيُّ فِي الدَّعْوَات الْكَبِير
عائشہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’آپ جانتی ہیں کہ نصف شعبان کی رات کیا واقع ہوتا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس میں کیا واقع ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’اس سال پیدا ہونے والے اور اس سال فوت ہونے والے ہر شخص کا نام اس رات لکھ دیا جاتا ہے،اسی رات ان کے اعمال اوپر چڑھتے ہیں اور اسی رات ان کا رزق نازل کیا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت کے بغیر کوئی بھی شخص جنت میں نہیں جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا:’’اللہ کی رحمت کے بغیر کوئی بھی شخص جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘ میں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! آپ بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:’’میں بھی نہیں،جب تک اللہ اپنی طرف سے مجھے ڈھانپ نہ لے۔‘‘ ضعیف۔