Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1327 (مشکوۃ المصابیح)

[1327] إسنادہ ضعیف جدًا، رواہ الترمذي (479) و ابن ماجہ (1384) ٭ فائد: منکر الحدیث، قالہ البخاري، یعني لا تحل الروایۃ عنہ۔

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَبْدُ اللہِ بْنِ أَبِي أَوْفَی قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: مَنْ كَانَتْ لَہُ حَاجَةٌ إِلَی اللہِ أَوْ إِلَی أحد من بني آدم فَليَتَوَضَّأ فليحسن الْوُضُوءَ ثُمَّ لْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ لْيُثْنِ عَلَی اللہِ تَعَالَی وَلْيُصَلِّ عَلَی النَّبِيِّ ﷺ ثُمَّ لْيَقُلْ: لَا إِلَہَ إِلَّا اللہُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ سُبْحَانَ اللہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ لَا تَدَعْ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَہُ وَلَا ہَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَہُ وَلَا حَاجَةً ہِيَ لَكَ رِضًی إِلَّا قَضَيْتَہَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ . رَوَاہُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَہْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: ہَذَا حَدِيث غَرِيب

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’جس شخص کو اللہ سے کوئی حاجت و ضرورت ہو یا کسی انسان سے کوئی کام ہو تو وہ اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں پڑھے،پھر اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کرے اور نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر صلوٰۃ پڑھے پھر یوں دعا کرے:’’اللہ حلیم و کریم کے سوا کوئی معبود برحق نہیں،عرش عظیم کا رب پاک ہے،ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے،میں تجھ سے ان اعمال و اسباب کی درخواست کرتا ہوں جو تیری رحمت اور تیری مغفرت کو واجب و مؤکد کر دیں،میں ہر نیکی کو غنیمت جاننے اور ہر گناہ سے بچنے کی تجھ سے درخواست کرتا ہوں،سب سے زیادہ رحم فرمانے والے! میرے تمام گناہ معاف فرما دے،میرے تمام غم دور کر دے اور ہر ضرورت جو تیری رضا کا باعث بنے اسے پورا فرما دے۔‘‘ ترمذی،ابن ماجہ،اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ضعیف۔