Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1326 (مشکوۃ المصابیح)

[1326] إسنادہ حسن، رواہ الترمذي (3689 وقال: حسن صحیح غریب) [و صححہ ابن خزیمۃ (1209) و ابن حبان (الإحسان: 7044، 7045) والحاکم (313/1) ووافقہ الذھبي۔ ]

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ: ((بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَی الْجَنَّةِ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي)) . قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَہُ وَرَأَيْتُ أَنَّ لِلَّہِ عَلَيَّ رَكْعَتَيْنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((بِہِمَا)) . رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ

بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں،ایک روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صبح کے وقت بلال ؓ سے پوچھا:’’کس عمل کی وجہ تم مجھ سے پہلے جنت میں چلے گئے میں جب بھی جنت میں گیا تو میں نے تمہارے جوتوں کی آواز اپنے آگے سنی،‘‘ انہوں نے عرض کیا،اللہ کے رسول! میں جب بھی اذان کہتا ہوں تو دو رکعتیں پڑھتا ہوں،اور جب میرا وضو ٹوٹ جاتا ہے تو میں فوراً وضو کرتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے دو رکعتیں پڑھنا مجھ پر لازم ہیں (لہذا میں دو رکعتیں پڑھتا ہوں) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’انہی دو کی وجہ سے (تم اس مقام کو پہنچے ہو)۔‘‘ اسنادہ حسن،رواہ الترمذی۔