Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1365 (مشکوۃ المصابیح)

[1365] إسنادہ ضعیف، رواہ أحمد (311/2 ح 8088) ٭ فیہ فرج بن فضالۃ ضعیف و علي بن أبي طلحۃ: لم یسمع من أبي ھریرۃ۔

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ ﷺ: لِأَيِّ شَيْءٍ سُمِّيَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: ((لِأَنَّ فِيہَا طُبِعَتْ طِينَةُ أَبِيكَ آدَمَ وَفِيہَا الصَّعْقَةُ وَالْبَعْثَةُ وَفِيہَا الْبَطْشَةُ وَفِي آخِرِ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ مِنْہَا سَاعَةٌ مَنْ دَعَا اللہ فِيہَا اسْتُجِيبَ لَہُ)) . رَوَاہُ أَحْمد

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا گیا،جمعہ کے دن کے نام کی وجہ سے تسمیہ کیا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیونکہ اس روز آپ کے باپ آدمؑ کے خمیر کو تیار کیا گیا،اسی میں نفخہ اولی (پہلی بار صور پھونکا جانا) اور نفخہ ثانیہ ہے۔اسی میں حشر کا میدان سجے گا۔اور اس کی آخری تین گھڑیوں میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو شخص اس میں دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔‘‘ ضعیف۔