Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1488 (مشکوۃ المصابیح)

[1488] رواہ مسلم (913/26) والبغوي في شرح السنۃ (379/4۔ 380 تحت ح 1144)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كُنْتُ أرتمي بأسہم لي بالمدين فِي حَيَاةَ رَسُولِ اللہِ ﷺ إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُہَا. فَقُلْتُ: وَاللہِ لَأَنْظُرَنَّ إِلَی مَا حَدَثَ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ. قَالَ: فَأَتَيْتُہُ وَہُوَ قَائِمٌ فِي الصَّلَاةِ رَافِعٌ يَدَيْہِ فَجعل يسبح ويہلل وَيكبر ويحمد وَيَدْعُو حَتَّی حَسَرَ عَنْہَا فَلَمَّا حَسَرَ عَنْہَا قَرَأَ سُورَتَيْنِ وَصَلَّی رَكْعَتَيْنِ. رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِي صَحِيحِہِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَكَذَا فِي شَرْحِ السُّنَّةِ عَنْہُ وَفِي نُسَخِ الْمَصَابِيحِ عَنْ جَابِرِ بن سَمُرَة

عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں،میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی میں مدینہ میں تیر اندازی کر رہا تھا کہ اچانک سورج گرہن ہوا،میں نے وہ تیر (ادھر ہی) پھینکے اور کہا: اللہ کی قسم میں دیکھوں گا کہ سورج گرہن کے بارے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیا نئی تعلیم ارشاد فرماتے ہیں،وہ بیان کرتے ہیں،میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ ہاتھ اٹھائے کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں،آپ تسبیح و تہلیل،تکبیر و تحمید اور دعا کرنے لگے،حتیٰ کہ سورج گرہن ختم ہو گیا تو آپ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعتیں ادا فرمائیں۔صحیح مسلم اور شرح السنہ میں عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ سے مروی ہے جبکہ مصابیح کے نسخوں میں جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے۔رواہ مسلم والبغوی فی شرح السنہ۔