Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1614 (مشکوۃ المصابیح)

[1614] إسنادہ ضعیف جدًا، رواہ أحمد (267/5 ح 22649) ٭ فیہ معان بن رفاعۃ: ضعیف، و علي بن یزید الألھاني: متروک۔

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: جَلَسْنَا إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ فَذَكَّرَنَا وَرَقَّقَنَا فَبَكَی سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ فَقَالَ: يَا لَيْتَنِي مِتُّ. فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ((يَا سَعْدُ أَعِنْدِي تَتَمَنَّی الْمَوْتَ؟)) فَرَدَّدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ: ((يَا سَعْدُ إِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّةِ فَمَا طَالَ عُمْرُكَ وَحَسُنَ مِنْ عَمَلِكَ فَہُوَ خَيْرٌ لَك)) . رَوَاہُ أَحْمد

ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں،ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف توجہ کر کے بیٹھے ہوئے تھے،آپ نے ہمیں وعظ و نصیحت کی اور ہمارے دلوں کو نرم کیا تو سعد بن ابی وقاص ؓ رونے لگے،انہوں نے بہت زیادہ روتے ہوئے کہہ دیا: کاش کہ میں مر جاتا،یہ سن کر،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’سعد! کیا تم میرے ہوتے ہوئے موت کی تمنا کرتے ہو؟‘‘ آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی،پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’سعد! اگر تمہیں جنت کے لیے پیدا کیا گیا ہے تو پھر تمہاری عمر جتنی دراز ہو گی اور تمہارے جتنے عمل اچھے ہوں گے وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔‘‘ ضعیف۔