Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1659 (مشکوۃ المصابیح)
[1659] متفق علیہ، رواہ البخاري (1337) و مسلم (956/71) واللفظ لہ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَوْ شَابٌّ فَفَقَدَہَا رَسُولُ اللہِ ﷺ فَسَأَلَ عَنْہَا أَوْ عَنْہُ فَقَالُوا: مَاتَ. قَالَ: ((أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي؟)) قَالَ: فَكَأَنَّہُمْ صَغَّرُوا أَمْرَہَا أَوْ أَمْرَہُ. فَقَالَ: ((دلوني علی قَبرہ)) فدلوہ فصلی عَلَيْہَا. قَالَ: ((إِنَّ ہَذِہِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَی أَہْلِہَا وَإِنَّ اللہَ يُنَوِّرُہَا لَہُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْہِمْ)) . وَلَفظہ لمُسلم
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام خاتون،جو کہ مسجد کی صفائی کیا کرتی تھیں یا کوئی نوجوان تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نہ دیکھا تو آپ نے اس کے بارے میں سوال کیا،صحابہ نے عرض کیا،وہ تو وفات پا چکا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تم نے مجھے کیوں نہ مطلع کیا؟‘‘ راوی بیان کرتے ہیں،گویا انہوں نے اس کے معاملے کو کم تر سمجھا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’مجھے اس کی قبر بتاؤ۔‘‘ انہوں نے بتا دیا تو آپ نے وہاں نماز جنازہ پڑھی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’یہ قبریں اپنے اصحاب پر اندھیروں سے بھری پڑی ہیں،اور بے شک اللہ میرے نماز جنازہ پڑھنے کے ذریعے انہیں منور فرما دیتا ہے۔‘‘ بخاری،مسلم اور الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔متفق علیہ۔