Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1662 (مشکوۃ المصابیح)
[1662] متفق علیہ، رواہ البخاري (1367) و مسلم (949/60)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرُّوا بِجَنَازَةٍ فَأَثْنَوْا عَلَيْہَا خَيْرًا. فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ((وَجَبَتْ)) ثُمَّ مَرُّوا بِأُخْرَی فَأَثْنَوْا عَلَيْہَا شَرًّا. فَقَالَ: ((وَجَبَتْ)) فَقَالَ عُمَرُ: مَا وَجَبَتْ؟ فَقَالَ: ((ہَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْہِ خَيْرًا فَوَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّةُ وَہَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْہِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَہُ النَّارُ أَنْتُم شُہَدَاء اللہ فِي الأَرْض)) . وَفِي رِوَايَةٍ: ((الْمُؤْمِنُونَ شُہَدَاءُ اللہِ فِي الْأَرْضِ))
انس ؓ بیان کرتے ہیں،وہ ایک جنازے کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس کی اچھائی بیان کی،جس پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’واجب ہو گئی۔‘‘ پھر وہ دوسرے جنازے کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس کی برائی بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’واجب ہو گئی۔‘‘ عمر ؓ نے عرض کیا: کیا واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’تم نے اس کی اچھائی بیان کی تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے برائی بیان کی تو اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی،تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔‘‘ بخاری،مسلم اور ایک روایت میں ہے ’’مومن زمین پر اللہ کے گواہ ہیں۔‘‘ متفق علیہ۔