Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1722 (مشکوۃ المصابیح)

[1722] متفق علیہ، رواہ البخاري (1303) و مسلم (2315/62)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ عَلَی أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ وَكَانَ ظِئْرًا لِإِبْرَاہِيمَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِبْرَاہِيمَ فَقَبَّلَہُ وَشَمَّہُ ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْہِ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِبْرَاہِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِہِ فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللہِ ﷺ تَذْرِفَانِ. فَقَالَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللہِ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّہَا رَحْمَةٌ ثُمَّ أَتْبَعَہَا بِأُخْرَی فَقَالَ: إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِك يَا إِبْرَاہِيم لَمَحْزُونُونَ

انس ؓ بیان کرتے ہیں،ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں ابوسیف حداد جو کہ (نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے) ابراہیم کے رضاعی باپ تھے،کے پاس گئے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابراہیم کو لے لیا،اسے چوما اور سونگھا،ہم اس کے بعد پھر ان کے پاس گئے تو ابراہیم آخری سانسوں پر تھے،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں تو عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے آپ سے عرض کیا،اللہ کے رسول! آپ (بھی روتے ہیں)،آپ نے فرمایا:’’ابن عوف! یہ تو رحمت ہے۔‘‘ اور پھر آپ دوبارہ روئے اور فرمایا بے شک آنکھیں اشکبار اور دل غمگین ہے،لیکن ہم صرف وہی بات کریں گے جس سے ہمارا پروردگار راضی ہو۔اے ابراہیم! ہم تیری جدائی پر یقیناً غمگین ہیں۔‘‘ متفق علیہ۔