Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1723 (مشکوۃ المصابیح)
[1723] متفق علیہ، رواہ البخاري (1284) و مسلم (923/11)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ ﷺ إِلَيْہِ: إِنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ فَأْتِنَا. فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ وَيَقُولُ: ((إِنَّ لِلَّہِ مَا أَخَذَ وَلَہُ مَا أَعْطَی وَكُلٌّ عِنْدَہُ بِأَجَلٍ مُسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ)) . فَأَرْسَلَتْ إِلَيْہِ تُقْسِمُ عَلَيْہِ لَيَأْتِيَنَّہَا فَقَامَ وَمَعَہُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جبل وَأبي بن كَعْب وَزيد ابْن ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُفِعَ إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ الصَّبِيُّ وَنَفْسُہُ تَتَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَاہُ. فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللہِ مَا ہَذَا؟ فَقَالَ: ((ہَذِہِ رَحْمَةٌ جَعَلَہَا اللہُ فِي قُلُوبِ عِبَادِہِ. فَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللہُ مِنْ عِبَادِہِ الرُّحَمَاء))
اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لخت جگر نے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ میرا بیٹا قریب المرگ ہے،لہذا آپ تشریف لائیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام بھیجا اور یہ پیغام دیا:’’یقیناً اللہ کا ہے جو اس نے لے لیا،اور جو اس نے دے رکھا ہے،اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے،پس صبر کریں اور ثواب پائیں۔‘‘ انہوں نے دوبارا پیغام بھیجا اور قسم دے کر عرض کیا کہ آپ ضرور تشریف لائیں،آپ کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ ؓ،معاذ بن جبل ؓ،ابی بن کعب ؓ،زید بن ثابت ؓ،اور کچھ اور لوگ آپ کے ساتھ تشریف لائے،بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں دے دیا گیا،جب کہ اس کے سانسوں کا ربط ٹوٹ رہا تھا،آپ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں تو سعد ؓ نے عرض کیا،اللہ کے رسول! یہ کیا ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’یہ (آنسو) تو اللہ کی رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا فرمائی،اللہ بھی اپنے رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم فرماتاہے۔‘‘ متفق علیہ۔