Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1724 (مشکوۃ المصابیح)
[1724] متفق علیہ، رواہ البخاري (1304) ومسلم (924/12)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: اشْتَكَی سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوًی لَہُ فَأَتَاہُ النَّبِيُّ ﷺ يَعُودُہُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْہِ وَجَدَہُ فِي غَاشِيَةٍ فَقَالَ: (قَدْ قَضَی؟ قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللہِ فَبَكَی النَّبِيُّ ﷺ فَلَمَّا رَأَی الْقَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ ﷺ بَكَوْا فَقَالَ: أَلَا تَسْمَعُونَ؟ أَنَّ اللہَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِہَذَا وَأَشَارَ إِلَی لِسَانِہِ أَوْ يَرْحَمُ وَإِن الْمَيِّت لعيذب ببكاء أَہلہ
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں،سعد بن عبادہ ؓ کسی بیماری میں مبتلا ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ،سعد بن ابی وقاص ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ بھی آپ کے ساتھ تھے،جب آپ ان کے پاس پہنچے تو آپ نے انہیں بیہوشی کے عالم میں پایا تو فرمایا:’’کیا یہ فوت ہو چکے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نہیں،پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رونے لگے،جب لوگوں نے آپ کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی رو دئیے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا تم سنتے نہیں کہ اللہ آنکھوں کے رونے اور دل کے غمگین ہونے پر عذاب نہیں دیتا،لیکن وہ تو اس زبان کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یا رحم کرتا ہے،اور بے شک میت کو،اس کے اہل خانہ کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘‘ متفق علیہ۔