Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1759 (مشکوۃ المصابیح)

[1759] إسنادہ ضعیف جدًا، رواہ أحمد (201/1 ح 1734) والبیھقي في شعب الإیمان (9695) ٭ ہشام بن زیاد أبو المقدام متروک و أمہ ’’لا تعرف‘‘ کما في آخر التقریب (ص 480)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَذْكُرُہَا وَإِنْ طَالَ عَہْدُہَا فَيُحْدِثُ لِذَلِكَ اسْتِرْجَاعًا إِلَّا جَدَّدَ اللہُ تَبَارَكَ وَتَعَالَی لَہُ عِنْدَ ذَلِكَ فَأَعْطَاہُ مِثْلَ أَجْرِہَا يَوْمَ أُصِيبَ بِہَا)) . رَوَاہُ أَحْمَدُ وَالْبَيْہَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان

حسین بن علی ؓ،نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’جب کوئی مسلمان مرد یا مسلمان عورت کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے،اور پھر اس (مصیبت کے واقع ہونے) کے طویل مدت بعد اسے نئے سرے سے یاد آ جائے اور وہ (انا للہ وانا الیہ راجعون) پڑھ لے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اسے نئے سرے سے اتنا ہی ثواب عطا فرما دیتا ہے جتنا اس نے اس مصیبت کے واقع ہونے کے روز ثواب عطا کیا تھا۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا۔