Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1778 (مشکوۃ المصابیح)
[1778] متفق علیہ، رواہ البخاري (1468) و مسلم (983/11)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَن أَبِي ہُرَيْرَةَ. قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللہِ ﷺ عُمَرَ عَلَی الصَّدَقَةِ. فَقِيلَ: مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّہُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاہُ اللہُ وَرَسُولُہُ. وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا. قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَہُ وَأَعْتُدَہُ فِي سَبِيلِ اللہِ. وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَہِيَ عَلَيَّ. وَمِثْلُہَا مَعَہَا)) . ثُمَّ قَالَ: ((يَا عُمَرُ أَمَا شَعَرْتَ أَن عَم الرجل صنوا أَبِيہ؟))
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمر کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو آپ کو بتایا گیا کہ ابن جمیل ؓ،خالد بن ولید ؓ اور عباس ؓ نے زکوۃ روک لی ہے،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’ابن جمیل تو اس وجہ سے انکار کرتا ہے کہ وہ تنگ دست تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے اسے مال دار کر دیا،رہا خالد،تو تم خالد پر ظلم کرتے ہو،اس نے تو اپنی زرہیں اور آلات جنگ اللہ کی راہ میں وقف کر رکھے ہیں،اور رہے عباس تو ان کی زکوۃ اور اس کے برابر وہ میرے ذمہ ہے۔‘‘ پھر فرمایا:’’عمر! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی طرح ہوتا ہے۔‘‘ متفق علیہ۔