Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1793 (مشکوۃ المصابیح)

[1793] إسنادہ ضعیف، رواہ الشافعي فی الأم (59/2) و البخاري فی التاریخ الکبیر (18/1 ح 549) والحمیدي (239 بتحقیقي) والبیھقي في شعب الإیمان (3522) وانظر المنتقی (2016۔ 2017) ٭ فیہ محمد بن عثمان الجمحي: ضعفہ الجمھور۔

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: ((مَا خَالَطَتِ الزَّكَاةُ مَالًا قَطُّ إِلَّا أَہْلَكَتْہُ)) . رَوَاہُ الشَّافِعِيُّ وَالْبُخَارِيُّ فِي تَارِيخِہِ وَالْحُمَيْدِيُّ وَزَادَ قَالَ: يَكُونُ قَدْ وَجَبَ عَلَيْكَ صَدَقَةٌ فَلَا تُخْرِجْہَا فَيُہْلِكُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ. وَقَدِ احْتَجَّ بِہِ من يری تعلق الزَّكَاةِ بِالْعَيْنِ ہَكَذَا فِي الْمُنْتَقَی وَرَوَی الْبَيْہَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ بِإِسْنَادِہِ إِلَی عَائِشَةَ. وَقَالَ أَحْمَدُ فِي ((خَالَطَتْ)): تَفْسِيرُہُ أَنَّ الرَّجُلَ يَأْخُذُ الزَّكَاةَ وَہُوَ مُوسِرٌ أَو غَنِي وَإِنَّمَا ہِيَ للْفُقَرَاء

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں،میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’جس مال میں زکوۃ خلط ملط ہو جائے تو وہ (زکوۃ) اس کو ختم کر دیتی ہے۔‘‘ شافعی،امام بخاری نے اسے اپنی تاریخ میں روایت کیا ہے،اور امام حمیدی نے یہ اضافہ نقل کیا ہے: اگر تم پر زکوۃ واجب ہو اور پھر تم اسے ادا نہ کرو تو اس طرح حرام،حلال کو تباہ کر دے گا،اس سے ان لوگوں نے دلیل لی ہے جو سمجھتے ہیں کہ زکوۃ عین مال سے ادا کرنا فرض ہے۔مثقیٰ میں بھی اسی طرح ہے۔بیہقی نے امام احمد بن حنبل سے اپنی سند سے عائشہ ؓ تک شعب الایمان میں بیان کیا ہے اور امام احمد نے ’’زکوۃ کا مال ملانے۔‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی مال دار شخص زکوۃ وصول کرے جبکہ یہ فقراء کا حق ہے۔ضعیف۔