Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1835 (مشکوۃ المصابیح)
[1835] إسنادہ ضعیف، رواہ أبو داود (1630) ٭ عبد الرحمٰن بن زیاد الإفریقي: ضعیف۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَبَايَعْتُہُ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَةِ. فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((إِنَّ اللہَ لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِہِ فِي الصَّدَقَاتِ حَتَّی حَكَمَ فِيہَا ہُوَ فَجَزَّأَہَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الْأَجْزَاء أَعطيتك)) . رَوَاہُ أَبُو دَاوُد
زیاد بن حارث صدائی ؓ بیان کرتے ہیں،میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کی بیعت کی،انہوں نے ایک طویل حدیث بیان کی،ایک آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا،مجھے صدقہ میں سے کچھ دیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا:’’صدقات کے معاملے میں اللہ نے کسی نبی یا اس کے علاوہ کسی شخص کی تقسیم کے حکم کو پسند نہیں فرمایا،بلکہ اس معاملے میں اس نے خود حکم فرمایا تو اسے آٹھ اجزاء میں تقسیم فرمایا،اگر تو تم بھی ان آٹھ اجزاء (مصارف) میں سے ہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں۔‘‘ ضعیف۔