Mishkaat ul Masabeeh Hadith 1836 (مشکوۃ المصابیح)
[1836] إسنادہ ضعیف، رواہ مالک (269/1 ح 610) والبیھقي في شعب الإیمان (5771) ٭ السند منقطع، زید بن أسلم لم یدرک عمر رضي اللہ عنہ۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ لَبَنًا فَأَعْجَبَہُ فَسَأَلَ الَّذِي سَقَاہُ: مِنْ أَيْنَ ہَذَا اللَّبَنُ؟ فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ وَرَدَ عَلَی مَاءٍ قَدْ سَمَّاہُ فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ وَہُمْ يَسْقُونَ فَحَلَبُوا مِنْ أَلْبَانِہَا فَجَعَلْتُہُ فِي سِقَائِي فَہُوَ ہَذَا: فَأدْخل عمر يَدہ فاستقاءہ. رَوَاہُ مَالِكٌ وَالْبَيْہَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں،عمر بن خطاب ؓ نے دودھ پیا تو وہ انہیں پسند آیا،انہوں نے اس دودھ پلانے والے شخص سے پوچھا: یہ دودھ کہاں سے (حاصل کیا) ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ فلاں گھاٹ پر گیا تھا،وہاں صدقہ کے کچھ اونٹ تھے اور وہ (چرواہے) انہیں پانی پلا رہے تھے،انہوں نے ان کا دودھ دھویا تو میں نے اسے اپنے برتن میں ڈال لیا،یہ وہ ہے۔عمر ؓ نے اپنا ہاتھ (حلق میں) ڈالا اور قے کر دی۔ضعیف۔